حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے اسلحہ جمع کرانے کے مسئلے کو مسترد کرکے اعلان کیا: "مزاحمت ایک جائز حق ہے اور ہتھیار اس حق کے دائرے میں ایک کلیدی وسیلہ سمجھے جاتے ہیں۔"
باسم نعیم نے غزہ میں صہیونیوں کے ہاتھوں ہونے والی مسلسل نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا: "غزہ کا مستقبل اور مسئلۂ فلسطینی مکمل طور پر ایک اندرونی مسئلہ ہے۔"
ان کا کہنا تھا کہ "رفح گذرگاہ کو ـ سمجھوتے کے مطابق ـ نہیں کھولا گیا اور اس گذرگاہ سے گذرنے والے افراد کی تعداد 25 سے زیادہ نہیں ہے۔"
انھوں نے کہا: "جنگ بندی کا پہلا مرحلہ مکمل نہیں ہؤا اور امریکی غزہ پر صہیونی جارحیتوں کی حمایت کرتا ہے۔"
انھوں نے کہا: "صہیونی غزہ کے عوام کو علاج معالجے کے لئے اس خطے سے باہر نہیں جانے دیتے۔"
ان کا کہنا تھا کہ "جنگ بندی کا پہلا مرحلہ نافذ العملل ہے اور ہم انسانی بنیادوں پر امداد اور تعمیر نو کے لئے مواد کی ترسیل پر اصرار کرتے ہیں۔"
انھوں نے کہا: "مذکورہ سمجھوتے کے تحت ایک سیاسی عمل سامنے رکھا گیا ہے جس کی بنیاد پر ملت فلسطین قدس کی مرکزیت میں آزاد فلسطینی ریاست قائم کریں گے۔"
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے اسلحہ جمع کرانے کے مسئلے کو مسترد کرکے اعلان کیا: "مزاحمت ایک جائز حق ہے اور ہتھیار اس حق کے دائرے میں ایک کلیدی وسیلہ سمجھے جاتے ہیں۔"
انھوں نے کہا: "ہم جنگ نہیں چاہتے اور اگر قابضین سیاسی اور سفارتی ذرائع سے ہماری سرزمین ترک کرکے چلے جائیں تو ہم اس کی مخالفت نہیں کریں گے۔ ہتھیاروں کے مسئلے کو سلامتی کے قیام اور جنگ کے مستقل خاتمے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ